بچپن کی خواہشیں
یوں تو بچپن میں میری والدہ میری ہر ضرورتوں کو میرے کہنے سے ہی قبل از وقت پورا کر دیا کرتی تھیں اور اگر کبھی کسی چیز کی خواہش کرتا بھی تو وہ اسی وقت پوری ہو جاتی شاید یہی وجہ تھی کہ مجھے کبھی اپنی والدہ سے ضد کرنے کی عادت نہ تھی یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا اور اس وقت میری عمر لگ بھگ سات برس تھی جب پہلی بار میں اپنی کلاس کے ایک دوست کے گھر اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے گیا تھا اس کے گھر میں ایک رنگین ٹی وی تھا جس پر وہ اکثر اٹاری گیم لگا کر ویڈیو گیم کھیلا کرتا تھا اس نے اپنا ٹی وی آن کیا اور گیم لگا کر ہم دونوں گیم کھیلتے رہے شام کو جب میں اپنے گھر لوٹا تو میں نے اپنی امی جان سے گیم دلانے کی خواہش کی تو انہوں نے مجھے کہا کہ وہ اگلے ہی مہینے اپنی تنخواہ سے وہ گیم ضرور خرید کر دلائیں گی جس پر میں نے انکار کرتے ہوئے فورا وہ گیم دلانے کی ضد شروع کردی امی جان نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا عشاء کی نماز ادا کی اور ابایا پہن کر بس اسٹاپ کا رخ کیا کچھ ہی دیر بعد بس آئی تو ہم بس میں سوار ہو کر صدر کے مارکٹ پہنچے اس وقت سردیوں کی سخت رات تھی اسی لیے بازار بھی اپنے معمول سے پہلے بند ہو چکا تھا اور ہم بازار سے خالی ہاتھ گھر لوٹے اگلے روز جب میں اسکول سے گھر آیا تو گھر پر تالا لگا تھا امی جان بازار گئی ہوئی تھی تو میں نے اپنے چابی سے گھر کھولا بستہ رکھا کھانا کھایا اور مدرسے چلا گیا شام کو جب میں گھر واپس آیا تو امی جان کچن میں کام کر رہی تھی میں نے امی جان کو سلام کیا اور کمرے میں داخل ہوگیا جیسے ہی میں اپنے اسکول کا ہوم ورک کرنے کے لیے بستے کی اور بڑھا تو سامنے ایک بڑا سا تھیلا رکھا ہوا تھا جب میں نے اس تھیلے کو اُٹھا کر کنارے پر رکھنے کی کوشش کی تو اس میں مجھے ویڈیو گیم نظر آیا جس کے لیے میں پچھلی رات اپنی امی سے ضد کرتا رہا۔۔۔ جیسے ہی میں نے تھیلے سے اپنے گیم کو نکالا تو میری آنکھوں میں خوشی کی لہر چمک پڑی اور میں نے فوراً جا کر اپنی امی جان کو گلے لگایا اور ان کا شکریہ ادا کیا پھر ماں نے مجھے دو بوسے دیے اور اپنے کام میں مصروف ہو گئیں۔۔۔
آج سولہ سال بعد میرے دونوں چھوٹے بھائیوں نے مجھ سے صدر آنے کی ضد کی تو میں نے انہیں انکار کر دیا جس پر انہوں نے امی جان سے کہا کہ وہ انہیں بازار لے چلیں تو امی جان نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا عشاء کی نماز کے بعد وہ بازار کے لیے تیار ہو گئی اور پھر مجھے ان کے ساتھ بازار آنا پڑا۔۔۔
آج جب ہم صدر پہنچے تو راستے کی وہ سرد ہوائیں اور بازار کی بند دکانوں نے مجھے میرا بچپن یاد دلا دیا۔۔۔
آج بہت عرصے بعد احساس ہوا کہ ماں آخر ماں ہوتی ہے وہ اپنے اولاد کی خوشی کی خاطر رات اور دن کی پرواہ نہیں کرتی۔۔۔
وقت کے ساتھ بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور اپنے ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں لیکن ماں کبھی اپنے بچے کو خود سے دور نہیں ہونے دیتی
جب بچے جوان ہو جاتے ہیں تو ان کے پاس ماں باپ کے لیے وقت نہیں ہوتا لیکن والدین اگر بوڑھے بھی ہو جائیں تو ان کے پاس اپنے اولاد کے لیے ہمیشہ وقت ہوتا ہے
اللہ تمام والدین کو نیک صالح اولاد عطا کرے اور تمام اولادوں کو فرمانبردار بنائے ۔۔۔ آمین

Comments
Post a Comment