آؤ خوشیاں خریدیں


دو گھنٹے مسلسل موبائل مارکٹ میں گشت کرنے کے بعد بالآخر ایک موبائل پسند آیا موبائل کے تمام فیچرز چیک کیے کیمرہ سیلفی لیا اور پھر دکاندار سے بحث کرنے کے بعد پندرہ ہزار میں سودا طے پایا پھر اپنے بٹوے سے چند رنگ برنگی نوٹ نکال کر گنتی کیے اور دکاندار کے ہاتھ میں تھما کر مارکٹ سے روانہ ہوا اور سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ اس میں کونسے ایپ انسٹال کرنے ہیں کونسے نہیں اور ساتھ ساتھ وہی اکثر چھین جانے کا خیال بھی پریشان کرتی رہی خیر ابھی مارکیٹ سے چند فاصلے طے کیے تھے کہ سامنے دوسرے موبائل مال کے فٹ پاتھ پر لگے برگر کے کیبن پر نظر پڑی تو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے برگر کے اسٹال پر جا بیٹھا ابھی برگر آرڈر دیا اور موبائل کے فنکشن میں مصروف ہو گیا تھوڑی ہی دیر میں برگر تیار ہو کر میرے سامنے رکھ دیا گیا تو موبائل کو اپنے جیب میں رکھ کر برگر کھانے ہی لگا تھا کہ ایک پیاری اور معصوم سی آواز نے میرے کانوں میں سرگوشی کی میں نے پلٹ کر اپنے پیچھے دیکھا تو ایک معصوم سی بچی برگر کھانے کی خواہش اظہار کرنے لگی میں نے اپنا برگر اسے دے دیا اور خود کے لیے دوسرا آرڈر کر دیا ابھی بچی برگر کھانے ہی لگی تھی کہ اس کے دو بھائی بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گئے جیسے ہی بھائی آئے تو بچی نے اپنا برگر دونوں بھائیوں میں تقسیم کر دیا اور جب میں نے بچی کے لیے ایک اور برگر کا آرڈر کیا تو بچی نے انکار میں سر ہلایا اور کولڈرنگ کی طرف اشارہ کیا جب میں نے اس کی پسند کی کولڈرنگ دلائی تو وہ بھی اس نے اپنے بھائیوں کو دے دیا آج اس معصوم سی بچی کی اپنے بھائیوں سے محبت دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی اور روح کو اتنی تسکین ملی کے شاید میں اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں تحریر نہیں کر سکتا۔۔۔

ہم اپنی زندگی میں اپنے لیے کتنے فضول خواہشات پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں اور اس کے باوجود بھی ہم پریشان رہتے ہیں آج اس چھوٹی سی بچی سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔۔۔
جو خوشی دوسروں کی مدد کر کے حاصل ہوتی وہ اپنی ذات میں خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوتی


WhatsApp