......................سایہ......................

اگر ہم اپنے معاشرے کہ حالات و
واقعات پر غور کریں تو ہمیں سب سے زیادہ معاشرے میں بداخلاقی بےادبی اور لاشعوری
نظر آئیگی اور ان سب کے ہونے کی وجہ صرف یہ ہے کہ آج ہم اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کو
بھولا بیٹھے ہیں اور جو حیات ہیں ان سے دوری کر چکے ہیں آج ہمارے پاس جدید
ٹکنالوجی کے کمپیوٹر موبائل ٹیبلیٹ اور کئی آلا گیجیٹ میسر ہے اگر چہ نہیں ہے تو
ہمارے سر پر بزرگوں کا سایہ. آج ہم اپنا سارا وقت ان تمام جدید اشیا کے ساتھ گزار
رہے ہیں بس نہیں گزارتے تو اپنے بڑھے بزرگوں کے ساتھ اپنا وقت. جن سے ہمیں ادب و
اخلاق سیکھنے کو ملتے ہیں تو کیوں نا ہو ہمارے معاشرے میں بد اخلاقی بے ادبی... یہ
بھی حقیت ہے کہ جدید دور کے آلات نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان کر دی ہے وہیں
ہماری زندگی بھی بہت مشکل تر مشکل ہوگئی ہیں آج ہم انٹرنیٹ پر ہر مسئلے کا حل با آسانی
ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن کبھی اپنے بزرگوں سے نہیں پوچھتے. جن کے پاس انٹرنیٹ سے زیادہ
آسانیاں موجود ہیں اگر ہماری زندگی سے انٹرنیٹ خارج ہو جائے تو ہمیں واپس پلٹ کر
اپنے بزرگوں کے پاس ہی جانا ہوگی لیکن کہیں ایسا نا ہو کہ تب تک ہم بہت دیر کر چکے
ہوں... ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اس جدید زندگی سے کچھ قت نکال کر اپنے بزرگوں کے
ساتھ وقف کریں تا کہ ہمیں سیکھنے سمجھنے کو ملے. انٹرنیٹ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے
مگر ادب و اخلاق ہمیں صرف ہمارے بزرگ ہی سکھا سکتے ہیں. اسی لئے میں اپنا وقت
اپنے
بزرگوں کے ساتھ گزارتا ہوں.
بزرگوں کے ساتھ گزارتا ہوں.
میں اب مشکلوں سے نہیں
گھبراتا
کہ میرے سر پر بزرگوں
کا سایہ ہے
Comments
Post a Comment