سیکھنا سیکھو


Image may contain: 4 people, people sitting and indoor
کہتے ہیں انسان کا شوق اگر اس کی زندگی کا مقصد بن جائے یا پھر وہ اپنے مقصد کو اپنا شوق بنا لے تو پھر اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے راستے آئے ہوئے ہر مشکلات کو وہ ایک کھیل سمجھ کر اس کا مقابلہ کرتا ہے اور جب وہ اس کھیل میں ہار جاتا ہے تو اس ہار کے نتیجے میں اس کے اندر جیتنے کی جستجو اور بھی بڑھ جاتی ہے پھر وہ دن رات اپنی جیت کے لئے محنت کرتا ہے کوششوں پر کوشش کرتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اس کھیل پر مہارت حاصل کرلیتا ہے پھر دنیا میں وہ اپنا ایک مقام بنا لیتا ہے۔۔۔
مجھے بچپن سے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے سکھانے کا ہمیشہ شوق رہا ہے مگر غربت مفلسی اور گھریلوں پریشانیوں کی وجہ سے ٹھیک سے مستقل تعلیم جاری نہ رکھ سکا مگر جیسے جیسے وقت ملتا گیا ویسے ویسے علم کو جب جہاں پایا اسے حاصل کیا اور آگ پہنچایا چھٹی جماعت سے میٹرک تک زندگی کا سب سے مشکل ترین دور تھا خیر اللہ نے وہ بھی اچھے سے گزار دیا پھر انٹر کی اور گریجویشن کے لئے داخلہ لے لیا ۔۔۔ میں نے اپنی نو عمری سے نوکری کرنا شروع کر دی تھی جب بچے گلیوں میں کھیل خود کیا کرتے تھے اس وقت میں ایک کلینک میں وقت گزاری اور سیکھنے کے لیے جاتا تھا ڈاکٹر صاحب بہت اچھے انسان تھے مجھے روزانہ 5 روپے جیب خرچی دیتے تھے جب میں پیسے لینے سے انکار کر دیتا تو کہتے بیٹا یہ تمہاری پینسل ربر اور تعلیم کے لئے دیتا ہوں تو میں ان سے وہ تحفہ قبول کر لیتا تھا اس وقت میری عمر 9 سال تھی میں نے مستقل 3 سال اس کلینک میں کام کیا اور پھر زندگی میں ایک موڑ ایسا آیا جب ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا اور ڈیفینس کے پاس پنجاب کالونی میں منتقل ہوگئے جہاں ہم کچھ عرصہ رہے پھر وہاں سے ہم شہر سے دور ایک بستی میں رہنے لگے جہاں اچھی تعلیم تھی نہ ماحول، سرکاری اسکول میں استاد آتے تھے نہ بچے پرائویٹ کی فیس بہت زیادہ تھی بابا بے روزگار تھے خیر تین سال وہاں رہے جہاں گیس بجلی کا تصور بھی نہ تھا لوگ دور دور سے ٹیلی فون کے تاروں کی مدد سے بجلی لاتے تھے نلوں میں پانی تو دور وہاں نل کا خیال بھی نہیں آتا تھا کیوں کہ سرکار کی طرف سے جو پانی ملتا وہ لوگ ڈرم گیلن اور برتنوں میں جمع کرتے روز استعمال کرتے اور روز ٹینکر گلی کے کنارے پانی بھر کے چھوڑ جاتا جہاں سے ہم سب اپنی اپنی پانی کی گیلن اور ڈرم گھر لا کر استعمال کرتے تھے سڑکیں گلیاں تو اچھی تھی مگر ویران، 2 سال وہاں رہنے کے بعد جب کوئی اچھی درس گاہ نہ ملی تو ہم واپس شہر آگئے اور اپنے پرانے اسکول جا کر نویں جماعت میں داخلہ لے لیا 2010 میں جیسے تیسے مٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر کسی گارمنٹس فیکڑی میں مزدوری کرنے لگا 2012 میں میں نے کالج میں داخلہ لیا اور مزدوری چھوڑ کر نیپا چورنگی کے پاس آپٹک کی دکان میں کام پر لگ گیا اور ساتھ ساتھ انگریزی سیکھنے اپنی دکان کے پاس ایک سینٹر جانے لگا جہاں میری دوستی ایک خاتون سے ہوئی وہ خاتون ایک اسکول میں پرنسپل تھی ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم میرے اسکول میں پڑھا سکوگے تو میں نے خاموشی سے اپنا سر ہلایا جس پر انہوں نے مجھے دو دن کے لئے اپنے اسکول ڈیمو کے لئے بلا لیا۔ میں ان کے اسکول گیا اور پہلے ڈیمو میں ہی انہوں نے مجھے وہاں اردو پڑھانے کے لئے رکھ لیا ایک سال میں اس اسکول میں پڑھاتا رہا جس کے بعد وہ این جو ایک اولڈ ایج ہوم میں تبدیل ہو گیا جہاں سے میں نے نوکری چھوڑ دی اور پھر ایل ٹو ایل آگیا۔۔۔ 2013 میں میں نے ایل ٹو ایل پر ملازمت اختیار کی۔۔۔ ایل ٹو ایل اکیڈمی میں رہ کر میں نے زندگی میں سیکھنا سیکھا اپنے شوق کو مقصد بنا کر آج بھی اس ادارے سے منسلک ہوں، ایل ٹو ایل اکیڈمی میں رہ کر میں نے اپنی پہنچان بنائی ایک نئی زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔۔۔
آج ایل ٹو ایل میں میں ملازم نہیں بلکہ اس ادارے کا حصہ ہوں میری محنت محبت سب کچھ اب اسی ادارے سے جڑی ہیں اور زندگی کا مقصد سیکھنا سکھانا ہے اللہ تعلی ایل ٹو ایل کو خوب ترقی دے۔۔۔ آمین
WhatsApp