سیکھنا سیکھو

کہتے
ہیں انسان کا شوق اگر اس کی زندگی کا مقصد بن جائے یا پھر وہ اپنے مقصد کو اپنا
شوق بنا لے تو پھر اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے راستے آئے
ہوئے ہر مشکلات کو وہ ایک کھیل سمجھ کر اس کا مقابلہ کرتا ہے اور جب وہ اس کھیل
میں ہار جاتا ہے تو اس ہار کے نتیجے میں اس کے اندر جیتنے کی جستجو اور بھی بڑھ
جاتی ہے پھر وہ دن رات اپنی جیت کے لئے محنت کرتا ہے کوششوں پر کوشش کرتا ہے اور
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہ اس کھیل پر مہارت حاصل کرلیتا ہے پھر دنیا میں وہ
اپنا ایک مقام بنا لیتا ہے۔۔۔
مجھے بچپن سے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے سکھانے کا ہمیشہ شوق رہا ہے
مگر غربت مفلسی اور گھریلوں پریشانیوں کی وجہ سے ٹھیک سے مستقل تعلیم جاری نہ رکھ
سکا مگر جیسے جیسے وقت ملتا گیا ویسے ویسے علم کو جب جہاں پایا اسے حاصل کیا اور آگ
پہنچایا چھٹی جماعت سے میٹرک تک زندگی کا سب سے مشکل ترین دور تھا خیر اللہ نے وہ
بھی اچھے سے گزار دیا پھر انٹر کی اور گریجویشن کے لئے داخلہ لے لیا ۔۔۔ میں نے
اپنی نو عمری سے نوکری کرنا شروع کر دی تھی جب بچے گلیوں میں کھیل خود کیا کرتے
تھے اس وقت میں ایک کلینک میں وقت گزاری اور سیکھنے کے لیے جاتا تھا ڈاکٹر صاحب
بہت اچھے انسان تھے مجھے روزانہ 5 روپے جیب خرچی دیتے تھے جب میں پیسے لینے سے
انکار کر دیتا تو کہتے بیٹا یہ تمہاری پینسل ربر اور تعلیم کے لئے دیتا ہوں تو میں
ان سے وہ تحفہ قبول کر لیتا تھا اس وقت میری عمر 9 سال تھی میں نے مستقل 3 سال اس
کلینک میں کام کیا اور پھر زندگی میں ایک موڑ ایسا آیا جب ہم نے وہ محلہ چھوڑ دیا
اور ڈیفینس کے پاس پنجاب کالونی میں منتقل ہوگئے جہاں ہم کچھ عرصہ رہے پھر وہاں سے
ہم شہر سے دور ایک بستی میں رہنے لگے جہاں اچھی تعلیم تھی نہ ماحول، سرکاری اسکول
میں استاد آتے تھے نہ بچے پرائویٹ کی فیس بہت زیادہ تھی بابا بے روزگار تھے خیر
تین سال وہاں رہے جہاں گیس بجلی کا تصور بھی نہ تھا لوگ دور دور سے ٹیلی فون کے
تاروں کی مدد سے بجلی لاتے تھے نلوں میں پانی تو دور وہاں نل کا خیال بھی نہیں آتا
تھا کیوں کہ سرکار کی طرف سے جو پانی ملتا وہ لوگ ڈرم گیلن اور برتنوں میں جمع
کرتے روز استعمال کرتے اور روز ٹینکر گلی کے کنارے پانی بھر کے چھوڑ جاتا جہاں سے
ہم سب اپنی اپنی پانی کی گیلن اور ڈرم گھر لا کر استعمال کرتے تھے سڑکیں گلیاں تو
اچھی تھی مگر ویران، 2 سال وہاں رہنے کے بعد جب کوئی اچھی درس گاہ نہ ملی تو ہم
واپس شہر آگئے اور اپنے پرانے اسکول جا کر نویں جماعت میں داخلہ لے لیا 2010 میں
جیسے تیسے مٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر کسی گارمنٹس فیکڑی میں مزدوری کرنے لگا
2012 میں میں نے کالج میں داخلہ لیا اور مزدوری چھوڑ کر نیپا چورنگی کے پاس آپٹک
کی دکان میں کام پر لگ گیا اور ساتھ ساتھ انگریزی سیکھنے اپنی دکان کے پاس ایک
سینٹر جانے لگا جہاں میری دوستی ایک خاتون سے ہوئی وہ خاتون ایک اسکول میں پرنسپل
تھی ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم میرے اسکول میں پڑھا سکوگے تو میں نے
خاموشی سے اپنا سر ہلایا جس پر انہوں نے مجھے دو دن کے لئے اپنے اسکول ڈیمو کے لئے
بلا لیا۔ میں ان کے اسکول گیا اور پہلے ڈیمو میں ہی انہوں نے مجھے وہاں اردو
پڑھانے کے لئے رکھ لیا ایک سال میں اس اسکول میں پڑھاتا رہا جس کے بعد وہ این جو
ایک اولڈ ایج ہوم میں تبدیل ہو گیا جہاں سے میں نے نوکری چھوڑ دی اور پھر ایل ٹو
ایل آگیا۔۔۔ 2013 میں میں نے ایل ٹو ایل پر ملازمت اختیار کی۔۔۔ ایل ٹو ایل اکیڈمی
میں رہ کر میں نے زندگی میں سیکھنا سیکھا اپنے شوق کو مقصد بنا کر آج بھی اس ادارے
سے منسلک ہوں، ایل ٹو ایل اکیڈمی میں رہ کر میں نے اپنی پہنچان بنائی ایک نئی
زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔۔۔
آج ایل ٹو ایل میں میں ملازم نہیں بلکہ اس ادارے کا حصہ ہوں میری محنت محبت سب کچھ اب اسی ادارے سے جڑی ہیں اور زندگی کا مقصد سیکھنا سکھانا ہے اللہ تعلی ایل ٹو ایل کو خوب ترقی دے۔۔۔ آمین
آج ایل ٹو ایل میں میں ملازم نہیں بلکہ اس ادارے کا حصہ ہوں میری محنت محبت سب کچھ اب اسی ادارے سے جڑی ہیں اور زندگی کا مقصد سیکھنا سکھانا ہے اللہ تعلی ایل ٹو ایل کو خوب ترقی دے۔۔۔ آمین
Comments
Post a Comment