ہمیں روٹی کپڑا اور مکان نہیں، ہمیں ہماری شناخت چاہئیے

Image may contain: 1 person, text
پاکستان کی قیادت کے بعد ماضی کے دو واقعات ایسے ہیں جنہیں کتابوں میں تاریخ رقم تو کر دیا گیا ہے مگر شاید بہت سے حقائق پر راقم نے پردہ رکھا۔ 1965 کی جنگ میں انڈیا کو عبرت ناک شکست ہوئی، جسے آج بھی ہم ملک بھر سمیت تعلیمی اداروں میں جوش و خروش سے اپنی جیت کا جشن اور یوم دفاع مناتے ہیں اور اپنے نئے نسلوں کو یہ بتاتے ہیں کہ اس دن ہم نے اپنی ملک کی بقاء کی خاطر قربانیاں دی اور ملک کا دفاع کیا اور ایم ایم عالم جیسے جنگجوں پائلٹ کی مثال دیتے ہیں۔ جس نے دنیا پر مثال قائم کی جسے دنیا ایم ایم عالم بنگالی کے نام سے پہچانتی ہے۔
خیر یہ تو وہ تاریخ ہے جس پر پورا پاکستان اپنا سر فخر سے بلند کرتا ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ کا دوسرا پہلوں یہ بھی ہے جہاں پینسٹھ کی جنگ پر ہم نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک شکست دی وہیں اکہتر پر ہمارا ملک دو لخت ہوا اور ایک ماں کے دو بیٹوں نے اپنے گھر کا بٹوارہ کر لیا۔ اس دن کو پاکستان میں سقوط ڈھاکہ اور افسوس کے طور پر سیاہ دن اور سوگ مناتے ہیں اور یہ سوگ بھی وہی لوگ مناتے ہیں جنہوں نے اپنوں کی جدائی سہی ہو اور وہ لوگ جن پر آج بھی سقوط ڈھاکہ کا ظلم ڈھایا جاتا ہے۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سیاہ دن تھا جب بھائی نے بھائی سے جنگ کی اور پاکستانی نوے ہزار فوج نے مجبورا اپنا ہتھیار ڈال کر شکست کو قبول کیا جس کی حقائق آپ کو کسی نصابی کتاب میں ملے گی نہ غیر نصابی کتابوں میں اگر چہ غیر نصابی کتابوں میں مل بھی جائے تو وہ مکمل حقائق پر مبنی نہ ہوگی کیوں کہ ہر راقم اپنے اپنے مشاہدے اور مطالعے کی بنیاد پر تحریر کرتا ہے۔
اکہتر کی جنگ کے بعد مشرق پاکستان بنگلہ دیش بن کر دنیا کے نقشے پر ابھر کر آیا، جس کے بعد مشرق پاکستان میں مقیم پاکستانی اور پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالیوں کے اندر ہلچل مچی اور پاکستان سے محبت کرنے والے اس کے لئے جان و مال کی قربانیاں دینے والوں نے ہجرت شروع کر دی جو کہ یہ ہجرت کا سلسلہ 80 کے دہائی تک جاری و ساری رہا۔ لیکن اکہتر کی جنگ سے قبل جو پاکستانی بنگالی یہاں مقیم تھے وہ یہیں رہے اور انہوں نے دھرتی ماں سے محبت کی خاطر اپنی سگی ماں تک کو چھوڑ دیا اور اسی مٹی میں دفن ہونے کا عہد کر لیا۔
آج ان محب وطن بنگالیوں کی تیسری نسل ایک مشکل دوراہے پر کھڑی ہے، اس ملک کی خاطر سب کچھ قربان کرنے والے آج اس ملک میں اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے پھر رہے ہیں۔ جس کے باوجود انہیں ان کی شناخت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ میں ایک پاکستانی ہوں مگر میرا تعلق بھی بنگالی برادری سے ہے اسی لئے مجھے بھی تین سال میرے شناخت سے محروم رکھا گیا، مجھ پر غیر ملکی مقدمہ عائد کیا گیا اور تحقیقات کرائی گئی مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور قانونی لڑائی لڑی اور تین سال کی انتھک محنت و کوششوں کے بعد مجھے میری شناخت ملی۔
لیکن میں اکیلا اس مسئلے سے دو چار نہیں ہوں میں اکیلا یہاں بنگالی بولنے والا فرد نہیں ہوں مجھ جیسے لاکھوں نوجوان نسل آج بھی اپنی شناخت سے محروم ہیں، مگر اب وہ ہمت ہار چکے ہیں۔ انہوں نے مایوسی کو اپنا مقدر سمجھ لیا۔ سنتالیس سال سے یہ امتیازی سلوک ہمارے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ہمارے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ آخر ہماری غلطی ہی کیا ہے؟ اس ملک سے محبت کرنا ہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے اور اس جرم کی سزا ہمیں اور ہمارے نسلوں کو دیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم عمران خان نے بنگالیوں کو شناخت دینے کا بیان دیا اور پہلی بار کسی سیاست دان نے بطور وزیراعظم اور اسمبلی کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ بنگالیوں کے لئے شناخت پر آواز اٹھائی۔ اگر چہ اس سے قبل تمام سیاسی رہنماؤں نے الیکشن سے قبل بنگالیوں کے لئے جلسہ جلوس میں تقاریر کی، مگر وہ محض اپنی مفاد کی خاطر اور ان افراد سے ووٹ حاصل کرنا تھا۔ جن کے پاس شناخت پہلے سے موجود تھی۔ لیکن عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اس حوالے سے اپنی کوشش کی، جس کے نتیجے میں سندھ حکومت پیپلزپارٹی اپنی بھر پور مخالفت میں اتر آئی اور ایک بار انہوں نے ماضی کو دہرایا اور بنگالیوں کے بل کو مسترد کرتے ہوئے ان کے پرانے زخموں کو پھر سے کرید کر تازہ کر دیا۔
سندھ میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والوں کو میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کے ہم بنگالی کوئی بھوکے ننگے اور بے سہارا نہیں جو ہمیں روٹی کپڑا اور مکان چاہیے۔ ہم بانیان پاکستان کی اولاد ہیں اور اس ملک کی شہریت ہمارا بنیادی حق ہے۔ ہمیں روٹی کپڑا اور مکان سے کوئی غرض نہیں ہمیں بس ہماری شناخت چاہیے
WhatsApp